ناری[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عورت، استری؛ (مجازاً) بیوی نیز مؤنث، مادہ۔ "برہمن ناریوں کے مکھڑے کی رنگت سنہری ہوا کرتی تھی۔"      ( ١٩٩٢ء، کہانی مجھے لکھتی ہے، ١٦٦ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٤٤٠ء کو "شمس العشاق" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عورت، استری؛ (مجازاً) بیوی نیز مؤنث، مادہ۔ "برہمن ناریوں کے مکھڑے کی رنگت سنہری ہوا کرتی تھی۔"      ( ١٩٩٢ء، کہانی مجھے لکھتی ہے، ١٦٦ )

جنس: مؤنث